ادھر رسوا مجھے میری محبت کرتی جاتی ہے
ادھر رسوا مجھے میری محبت کرتی جاتی ہے
ادھر بدنام ان کی نواجوانی ہو نے والی ہے
گلے پر رکھ کے خنجر یا الٰہی سوچتے کیا ہو
مرے حق میں کوئی تجویز ثانی ہونے والی ہے
میں لاغر ہوں وہ نازک ہیں خدا مالک ہے دے جس کو
نزاکت کے مقابل ناتوانی ہو نے والی ہے
پڑا ہے عکس تیری چینیِ رنگت کا ساغر میں
شرابِ ارغوانی زعفرانی ہونے والی ہے
چراغِ گور ہنستا ہے کوئی آئے گا تربت پر
شگوں اچھا ہے کوئی شادمانی ہونے والی ہے
رئیسؔ اس نظم دلکش کے عدو بھی اب تو قائل ہیں
عمل تسخیر کا جادو بیانی ہونے والی ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 398)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.