Font by Mehr Nastaliq Web

ادھر رسوا مجھے میری محبت کرتی جاتی ہے

رئیس اکبرآبادی

ادھر رسوا مجھے میری محبت کرتی جاتی ہے

رئیس اکبرآبادی

MORE BYرئیس اکبرآبادی

    ادھر رسوا مجھے میری محبت کرتی جاتی ہے

    ادھر بدنام ان کی نواجوانی ہو نے والی ہے

    گلے پر رکھ کے خنجر یا الٰہی سوچتے کیا ہو

    مرے حق میں کوئی تجویز ثانی ہونے والی ہے

    میں لاغر ہوں وہ نازک ہیں خدا مالک ہے دے جس کو

    نزاکت کے مقابل ناتوانی ہو نے والی ہے

    پڑا ہے عکس تیری چینیِ رنگت کا ساغر میں

    شرابِ ارغوانی زعفرانی ہونے والی ہے

    چراغِ گور ہنستا ہے کوئی آئے گا تربت پر

    شگوں اچھا ہے کوئی شادمانی ہونے والی ہے

    رئیسؔ اس نظم دلکش کے عدو بھی اب تو قائل ہیں

    عمل تسخیر کا جادو بیانی ہونے والی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 398)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے