Font by Mehr Nastaliq Web

بیان حال دل ناصبور ہوتا ہے

رئیس اکبرآبادی

بیان حال دل ناصبور ہوتا ہے

رئیس اکبرآبادی

MORE BYرئیس اکبرآبادی

    بیان حال دل ناصبور ہوتا ہے

    معاف کیجیے مجھ سے قصور ہوتا ہے

    سنی سنائی کا کیا اعتبار اے زاہد

    بتوں کا چھوڑ کے مشتاق حور ہوتا ہے

    یہ خاکسار چھٹے گا کبھی نہ قدموں سے

    تمہارے کہنے سے چل دور دور ہوتا ہے

    وفا نہیں نہ سہی وہ جفا تو کرتے ہیں

    اثر تو عشق کا دل پر ضرور ہوتا ہے

    سمجھ کے تجھ کو گناہوں کا بخشنے والا

    گناہ اے مرے رب غفور ہوتا ہے

    تمیز و عقل بشر کو ہے باعثِ تکلیف

    وہی خراب ہے جس کو شعور ہوتا ہے

    کسی کے بغض نہانی کی کیا خبر ہے رئیسؔ

    خدا ہی عالم مافی الصدور ہوتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 399)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے