بیان حال دل ناصبور ہوتا ہے
بیان حال دل ناصبور ہوتا ہے
معاف کیجیے مجھ سے قصور ہوتا ہے
سنی سنائی کا کیا اعتبار اے زاہد
بتوں کا چھوڑ کے مشتاق حور ہوتا ہے
یہ خاکسار چھٹے گا کبھی نہ قدموں سے
تمہارے کہنے سے چل دور دور ہوتا ہے
وفا نہیں نہ سہی وہ جفا تو کرتے ہیں
اثر تو عشق کا دل پر ضرور ہوتا ہے
سمجھ کے تجھ کو گناہوں کا بخشنے والا
گناہ اے مرے رب غفور ہوتا ہے
تمیز و عقل بشر کو ہے باعثِ تکلیف
وہی خراب ہے جس کو شعور ہوتا ہے
کسی کے بغض نہانی کی کیا خبر ہے رئیسؔ
خدا ہی عالم مافی الصدور ہوتا ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 399)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.