Font by Mehr Nastaliq Web

نہ سمجھ میں آئے لیکن یہ خطا نہیں بیاں کی

رعنا عظیم آبادی

نہ سمجھ میں آئے لیکن یہ خطا نہیں بیاں کی

رعنا عظیم آبادی

نہ سمجھ میں آئے لیکن یہ خطا نہیں بیاں کی

وہ قفس کی کیسے ہوتی جو زباں تھی آشیاں کی

جو نکل کے دل سے لب تک بھی بہ مشکل آ سکی تھی

ہوئی عرش تک رسائی اسی آہ ناتواں کی

میں چمن سے دور ہوکے کوئی غیر ہو گیا ہوں

کہ چھپائے مجھ سے باتیں کوئی میرے آشیاں کی

ہوئی سارے قافلوں کی وہی رہنمائے منزل

جو فضا میں گرد باقی تھی ہمارے کارواں کی

اسے یاد کیسے رہتی رہ و رسم باریابی

جسے ہوش نہ ہو سر کا نہ خبر ہو آستاں کی

مأخذ :
  • کتاب : دبستانِ عظیم آباد (Pg. 73)
  • Author : سلطان آزادؔ سلطان آزادؔ
  • مطبع : نکھار پریس مئو ناتھ بھنجن (1982)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے