Sufinama

مرے ارماں نکلنے دے ابھی سونے دے جاناں کو

راقم دہلوی

مرے ارماں نکلنے دے ابھی سونے دے جاناں کو

راقم دہلوی

MORE BY راقم دہلوی

    مرے ارماں نکلنے دے ابھی سونے دے جاناں کو

    صبا دامن سے روکے رہ نگاہ صبح ہجراں کو

    کیا ٹکڑے ہے آخر دست وحشت نے گریباں کو

    چھپا رکھا تھا اس پردہ میں ہم نے راز پنہاں کو

    کچھ ایسے ہو گئے اول ہی بے خود عشق میں ہم تو

    نہیں جانا گریباں کو نہ سمجھا ہم نے داماں کو

    نہ اس میں حسن یوسف سا نہ رعنائی زلیخا سی

    فسوں کچھ یاد ہے ایسا کہ لے لیتا ہے ایماں کو

    یہاں اغماض تم کر لو وہاں دیکھیں گے محشر میں

    چھڑانا غیر سے دامن کو اور مجھ سے گریباں کو

    یہیں سے حشر الٹے گا یہیں ہوگی قیامت بھی

    سمجھ رکھا ہے کیوں چھوڑیں زمین کوئے جاناں کو

    مجھے تم دیکھتے ہو اور اس حسرت سے میں تم کو

    کہ بلبل رو ئے گل کو اور گل بلبل کے ارماں کو

    جہاں میں خانہ زاد زلف کو کیا چھوڑ دیتے ہیں

    کہ تم نے چھوڑ رکھا مجھ اسیر زلف پیچاں کو

    میرے سینہ پر تم بیٹھو گلا تلوار سے کاٹو

    خط تقدیر میں سمجھوں خط شمشیر براں کو

    اسیری ہم کو اچھی تھی کہ عالم تھا تماشائی

    بہت ہم یاد کرتے ہیں تکلف ہائے زنداں کو

    نہ چھوڑو دوش پر گیسو بھرم کھلتا ہے گیسو کا

    پڑے گا تم کو کم کرنا مری شہبائے ہجراں کو

    محبت اس کو کہتے ہیں کہ تھی صحرا و مجنوں میں

    نہ صحرا نے اسے چھوڑا نہ مجنوں نے بیاباں کو

    وصال یار جب ہوگا ملا دے گی کبھی قسمت

    طبیعت میں طبیعت کو دل و جاں میں دل و جاں کو

    مٹایا اس نے کس کس کو برا ہو اس محبت کا

    زلیخا کی زلیخائی کو لیلیٰ کی شبستاں کو

    زباں سے کیوں کریں اپنی ستائش آپ ہم راقمؔ

    سخنداں جانچ لیں گے خود نگاہوں میں سخنداں کو

    مآخذ:

    • کتاب : کلیات راقم (Pg. 156)
    • Author : راقمؔ دہلوی
    • مطبع : افضل المطابع دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY