Sufinama

خطا کی اے دل ناداں خطا کی

راقم دہلوی

خطا کی اے دل ناداں خطا کی

راقم دہلوی

MORE BY راقم دہلوی

    خطا کی اے دل ناداں خطا کی

    تمنا کی تو کس نا آشنا کی

    خدا کی شان یہ قسمت حنا کی

    بنی مشاطہ اس کے دست و پا کی

    بتا کر شوخیاں اس کو ادا کی

    ڈبوئی ہم نے قسمت مدعا کی

    بیاں سن کر مرا جلتے ہیں شاہد

    زباں میں میری گرمی ہے بلا کی

    فراق یار سے گھٹنے لگا دم

    دہائی ہے دہائی ہے خدا کی

    مرا وعدہ رقیبوں سے وفا ہو

    ہوئی تاثیر کیا الٹی دعا کی

    کئی دن سے وہ گھبرائے ہوئے ہیں

    رسائی کچھ ہوئی آہ رسا کی

    نہ کہتے مدعا نخوت نہ ہوتی

    یہ خوبی ہے ہماری التجا کی

    ہوئے ہم خاک بھی اس رہ گزر میں

    رہی حسرت ہی وصل نقش پا کی

    وقار التجا بھی ہم نے کھویا

    عبث جا جا کے ان سے التجا کی

    امیدیں اپنی سب قایم رہیں گی

    اگر وہ ہیں خدائی میں خدا کی

    یہاں تو ہو چکی راقمؔ ملاقات

    توقع باقی ہے روز جزا کی

    مآخذ:

    • کتاب : کلیات راقم (Pg. 186)
    • Author : راقمؔ دہلوی
    • مطبع : افضل المطابع دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY