Sufinama

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے

راقم دہلوی

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے

راقم دہلوی

MORE BY راقم دہلوی

    اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے

    خوں سے آلودہ نہ ہو دامن بچاتے جائیے

    حسن زیبا لاکھ نظروں سے بچاتے جائیے

    اور کھلتا جائے گا جتنا چھپاتے جائیے

    بات اچھی آپ نے سیکھی ہے خوش ہوگا رقیب

    وعدے کرتے جائیے سوگند کھاتے جائیے

    کوچۂ جاناں میں آداب وفا بھی چاہیے

    گردن تسلیم خم ہو سر جھکاتے جائیے

    شاہدان باغ کی نازش مٹا دو حسن کے

    کچھ تماشائے قد و گیسو دکھاتے جائیے

    آپ کا ارشاد ناصح ہم کو ہے دل سے پسند

    درد دل کی بھی دوا لیکن بتاتے جائیے

    غیر کے سو ناز تم پر اور مجھ پر آپ کے

    آپ دبتے جائیے مجھ کو دباتے جائیے

    کعبہ و بت خانہ واعظ ہیں نشان دیں فریب

    دیکھیں ہمت آپ کی ان کو مٹاتے جائیے

    غیر کے گھر میں بھی راقمؔ آج تم ہوتے چلو

    ایک چھچھوندر چھوڑ کر کچھ گل کھلاتے جائیے

    مآخذ:

    • کتاب : کلیات راقم (Pg. 199)
    • Author : راقمؔ دہلوی
    • مطبع : افضل المطابع دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY