Sufinama

کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

راقم دہلوی

کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

راقم دہلوی

MORE BY راقم دہلوی

    کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

    مرض بیٹھے بٹھائے مول لینا اس کو کہتے ہیں

    غم فرقت ہے کھانے کو شب غم ہے تڑپنے کو

    ملا ہے ہم کو وہ جینا کہ مرنا اس کو کہتے ہیں

    بہت مغرور ہیں سرو و صنوبر قد موزوں پر

    دکھائیں گے کسی قامت کو زیبا اس کو کہتے ہیں

    وہ بد خو ہے جفا جو ہے ستم گر ہے سمجھتا ہوں

    اسی کا پھر تمنائی ہوں سودا اس کو کہتے ہیں

    ہماری آرزو کیا ہے تمنا ہے رقیبوں کی

    کہ بے خواہش بر آتی ہے تمنا اس کو کہتے ہیں

    مقدر کھینچ لائے گا کبھی تم کو دکھا دیں گے

    مرادیں یوں بر آتی ہیں تمنا اس کو کہتے ہیں

    جب ان ناکامیوں پر منحصر ہے زندگی اپنی

    خدایا مرگ کیا ہوگی جو جینا اس کو کہتے ہیں

    خدنگ عشق تم کھاتے حقیقت تم پہ کچھ کھلتی

    مزا فرقت کا آتا دل لگاتا اس کو کہتے ہیں

    نہ نکلے جب کوئی ارماں نہ کوئی آرزو نکلی

    تو اپنی حسرتوں کا خون ہونا اس کو کہتے ہیں

    محبت دونوں جانب ہو تو لطف عشق ہے ورنہ

    بنائے عشق کا پانی پہ رکھنا اس کہ کہتے ہیں

    یہ کیا عشق و محبت ہے نہ آتے ہو نہ ملتے ہو

    نہیں یہ کھیل لڑکوں کا تو پھر کیا اس کو کہتے ہیں

    کرو اس رنگ سے خواہش کہ ہر خواہش میں خواہش ہو

    وہ سن کر کہہ اٹھیں راقمؔ تقاضا اس کو کہتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : کلیات راقم (Pg. 108)
    • Author : راقمؔ دہلوی
    • مطبع : افضل المطابع دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY