Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

روز تجدید التفات کہاں

میکش اکبرآبادی

روز تجدید التفات کہاں

میکش اکبرآبادی

روز تجدید التفات کہاں

اگلے موسم کی سی وہ بات کہاں

ہیں وہی دن مگر کہاں وہ دن

ہے وہی رات پر وہ رات کہاں

سن تو اے آفتاب عالم تاب

تونے دیکھی ہے میری رات کہاں

اک ذرا مل کے رو لیں اور کہ پھر

ہم کہاں تم کہاں یہ رات کہاں

کٹ گیا دن تلاش منزل میں

اب گزرتی ہے دیکھیں رات کہاں

تو خدا ہی سہی مگر بخدا

تجھ میں انسان کی سی بات کہاں

گو وہی نغمہ ہے وہی مطرب

دل پہ اگلے سی واردات کہاں

دل کی بازی لگی ہے اب بھی مگر

ایک ہی چال میں وہ مات کہاں

ہے تمہیں سے یہ کائنات مگر

تم کہاں میری کائنات کہاں

مکتب عاشقی میں اے میکشؔ

فلسفہ اور دینیات کہاں

مأخذ :
  • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلداٹھارہویں (Pg. 287)
  • Author : عرفان عباسی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے