Font by Mehr Nastaliq Web

سانس آتا رہے سانس جاتا رہے

حامد وارثی گجراتی

سانس آتا رہے سانس جاتا رہے

حامد وارثی گجراتی

MORE BYحامد وارثی گجراتی

    سانس آتا رہے سانس جاتا رہے

    درد اٹھ اٹھ کے دل کو بٹھاتا رہے

    عمر گزرے اسی کشمکش میں مری

    غم ستاتا رہے خوں رلاتا رہے

    باد رحمت مدینہ سے چلتی رہے

    غنچۂ آرزو مسکراتا رہے

    میں ہمہ وقت محو نظارہ ہوں

    تو سر بام جلوہ دکھاتا رہے

    ہم سفر نہ کوئی اور نہ راہبر

    عشق خود راہ طیبہ دکھاتا رہے

    پردے پردے میں پیتا رہوں جام مے

    آنکھوں آنکھوں میں کوئی پلاتا رہے

    برق گرتی رہے جان جلتی رہے

    قلب صدموں پہ صدمے اٹھاتا رہے

    ذکر میلاد ہوتا رہے دہر میں

    اہل محفل پہ رحمت برستی رہے

    فکر دنیا کی کوئی نہ حامدؔ کو ہو

    نغمے تیرے سدا گنگناتا رہے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 166)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے