ہر گلی آباد ہے ہر آستاں آباد ہے
ہر گلی آباد ہے ہر آستاں آباد ہے
آپ ہی سے جان جاں سارا جہاں آباد ہے
آبیاری ہم نے کی ہے اس زمیں کی خون سے
آج تک جس پر ہمارا خانداں آباد ہے
گھر رعایا کے گرائے جا رہے ہیں دن بہ دن
سلطنت میں حاکم نا مہرباں آباد ہے
فصل گل کیوں کر نہ اس میں لہلہائے گی جناب
آپ کی الفت کا دل میں گلستاں آباد ہے
اس لیے لگتا ہے ہم کو گھر ہمارا خلد سا
شادماں ہے باپ اس میں اور ماں آباد ہے
وہ تو ہم ہی لوگ ہیں جن کے سبب نازاںؔ میاں
یہ زمیں آباد ہے اور آسماں آباد ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.