Sufinama

سنبھل جاؤ چمن والو خطر ہے ہم نہ کہتے تھے

واصف علی واصفؔ

سنبھل جاؤ چمن والو خطر ہے ہم نہ کہتے تھے

واصف علی واصفؔ

MORE BYواصف علی واصفؔ

    سنبھل جاؤ چمن والو خطر ہے ہم نہ کہتے تھے

    جمال گل کے پردے میں شرر ہے ہم نہ کہتے تھے

    لبوں کی تشنگی کو ضبط کا اک جام کافی ہے

    چھلکتا جام زہر کارگر ہے ہم نہ کہتے تھے

    زمانہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے جس کو اک زمانے سے

    محبت کی وہ اک پہلی نظر ہے ہم نہ کہتے تھے

    قیامت آ گئی لیکن وہ آئے ہیں نہ آئیں گے

    شب فرقت کی کب کوئی سحر ہے ہم نہ کہتے تھے

    غم جاناں غم ایام کے سانچے میں ڈھلتا ہے

    کہ اک غم دوسرے کا چارہ گر ہے ہم نہ کہتے تھے

    تڑپتی کوندتی تھی برق لہراتی مچلتی تھی

    ہمارے چار تنکوں پر نظر ہے ہم نہ کہتے تھے

    غبار راہ میں کھو جائے گا یہ کارواں آخر

    کہ رہزن کارواں کا راہبر ہے ہم نہ کہتے تھے

    نشان منزل مقصود سے آگاہ تھے واصفؔ

    فریب آگہی سے کب مفر ہے ہم نہ کہتے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY