Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

یہ دنیائے فانی ہے آنی جانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

سنجر غازیپوری

یہ دنیائے فانی ہے آنی جانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

سنجر غازیپوری

یہ دنیائے فانی ہے آنی جانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

کہ مفت جائے نہ زندگانی سنبھل کے چلئے قدم قدم پر

نہ کیجے برباد نوجوانی کہ دو ہی دن کی ہے زندگانی

خدا کی صورت یہ ہے دکھانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

جو مانگنا ہو خدا سے مانگو اسی سے بخشش کی التجا ہو

گناہ ڈھل کر ہو پانی پانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

گرے جو بے ہوش ہو کے موسیٰ تو مسکرا کر وہ شوخ بولا

کہاں گئی وہ لن ترانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

تمہیں نگاہوں میں ہو سمائے تمہیں ہو عالم سے منہ چھپائے

نہیں ہے کوئی تمہارا ثانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

بتوں سے الفت جو کر رہے ہو حسینوں پر دل سے مر رہے ہو

نہ ٹوٹے غم تم پہ آسمانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

نہیں ہے دنیا میں تم کو رہنا لحد میں سنجرؔ پڑے گا سونا

سمجھ کے اس کو سرائے فانی سنبھل کے چلیے قدم قدم پر

مأخذ :
  • کتاب : دیوان سنجرالمعروف گلدستہ کلام سجنر (Pg. 52)
  • Author : سنجر غازیپوری
  • مطبع : شیخ غلام حسین اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے