Font by Mehr Nastaliq Web

کم مرا حوصلہ نہیں ہوتا

ثقلین احمد جعفری

کم مرا حوصلہ نہیں ہوتا

ثقلین احمد جعفری

MORE BYثقلین احمد جعفری

    کم مرا حوصلہ نہیں ہوتا

    وہ جو ہوتے تو کیا نہیں ہوتا

    آفتیں بھی کبھی جو آ پڑتیں

    لب پہ میرے گلہ نہیں ہوتا

    ان کی موجودگی تھی اک نعمت

    دور جس کا خلا نہیں ہوتا

    بزم میں بات ان کی چھیڑی ہے

    غیر کا تذکرہ نہیں ہوتا

    ہوگئے پہلے معجزات کئی

    اب کوئی رونما نہیں ہوتا

    اپنے والوں کا دل نہیں دکھتا

    جب تلک مدعا نہیں ہوتا

    اپنے اوپر بھی اک نظر کیجے

    آدمی بے خطا نہیں ہوتا

    اپنے جذبات پر ہے قابو گو

    مجھ سے باضابطہ نہیں ہوتا

    تلخ باتوں کا ہے اثر اب تک

    داغ دل سے جدا نہیں ہوتا

    گھر گیا ہے وہ حادثات میں گو

    اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

    چار دن کی ہے زندگی سالکؔ

    طے یہ پر فاصلہ نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے