کم مرا حوصلہ نہیں ہوتا
کم مرا حوصلہ نہیں ہوتا
وہ جو ہوتے تو کیا نہیں ہوتا
آفتیں بھی کبھی جو آ پڑتیں
لب پہ میرے گلہ نہیں ہوتا
ان کی موجودگی تھی اک نعمت
دور جس کا خلا نہیں ہوتا
بزم میں بات ان کی چھیڑی ہے
غیر کا تذکرہ نہیں ہوتا
ہوگئے پہلے معجزات کئی
اب کوئی رونما نہیں ہوتا
اپنے والوں کا دل نہیں دکھتا
جب تلک مدعا نہیں ہوتا
اپنے اوپر بھی اک نظر کیجے
آدمی بے خطا نہیں ہوتا
اپنے جذبات پر ہے قابو گو
مجھ سے باضابطہ نہیں ہوتا
تلخ باتوں کا ہے اثر اب تک
داغ دل سے جدا نہیں ہوتا
گھر گیا ہے وہ حادثات میں گو
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
چار دن کی ہے زندگی سالکؔ
طے یہ پر فاصلہ نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.