Font by Mehr Nastaliq Web

محبت کا ہے مسکن دل تو صورت سے عیاں کیوں ہو

شباب اکبرآبادی

محبت کا ہے مسکن دل تو صورت سے عیاں کیوں ہو

شباب اکبرآبادی

MORE BYشباب اکبرآبادی

    محبت کا ہے مسکن دل تو صورت سے عیاں کیوں ہو

    خلاصہ عشق کا اک آہ سے میری بیاں کیوں ہو

    تبسم ان لبوں کا کون اتنا کہہ کے رکواتا

    دلِ معصوم پر اس کے گراتے بجلیاں کیوں ہو

    ہوا کرتا ہے دنیائے محبت میں یہی اکثر

    جلا کر آشیاں اپنا خیال آشیاں کیوں ہو

    پڑا تھا ان کے کوچہ میں مگر اس کی وہی حسرت

    شبابؔ اتنا ہی مجھ سے پوچھ لیتے وہ یہاں کیوں ہو

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 481)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے