محبت کا ہے مسکن دل تو صورت سے عیاں کیوں ہو
محبت کا ہے مسکن دل تو صورت سے عیاں کیوں ہو
خلاصہ عشق کا اک آہ سے میری بیاں کیوں ہو
تبسم ان لبوں کا کون اتنا کہہ کے رکواتا
دلِ معصوم پر اس کے گراتے بجلیاں کیوں ہو
ہوا کرتا ہے دنیائے محبت میں یہی اکثر
جلا کر آشیاں اپنا خیال آشیاں کیوں ہو
پڑا تھا ان کے کوچہ میں مگر اس کی وہی حسرت
شبابؔ اتنا ہی مجھ سے پوچھ لیتے وہ یہاں کیوں ہو
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 481)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.