Font by Mehr Nastaliq Web

مرگِ مجبور کہ انجام تمنائی ہے

شفیق اکبرآبادی

مرگِ مجبور کہ انجام تمنائی ہے

شفیق اکبرآبادی

MORE BYشفیق اکبرآبادی

    مرگِ مجبور کہ انجام تمنائی ہے

    حشر کیا چیز ہے اک حد شکیبائی ہے

    حسنِ خود بیں ترا مخمور خود آرائی ہے

    حیرتِ دید سے مسرور تمنائی ہے

    موت آ جائے محبت میں تو پردہ رہ جائے

    زندگی کیا جو یہی حالت رسوائی ہے

    شوق محدود نہ وہ حسن کے جلوے محدود

    اس کی صورت جہاں دیکھا ہے نظر آئی ہے

    ہاں یہ ہی نعرۂ منصور کے معنی نکلے

    اپنی ہستی پہ کرے غور تو رسوائی ہے

    آئینہ سازِ حقیقت ہیں نگاہیں تیری

    تو نے دیکھا تو میرے دل نے جلا پائی ہے

    بے نقاب آج وہ میت پہ مری آئے ہیں

    آج اے حکم مشیت تری رسوائی ہے

    کشتۂ شام شبِ ہجر کو شکوہ نہ رہا

    موت کی رات بہ انداز سحر آئی ہے

    خاک اڑتی ہے مری بزم تمنا میں شفیقؔ

    آرزو میری جو قربان خود آرائی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 500)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے