کل چہرہ کا جو رنگ تھا وہ رنگ نہیں آج
کل چہرہ کا جو رنگ تھا وہ رنگ نہیں آج
کیوں بیٹھے ہو بتلاؤ تو اے محو حزیں آج
کل تک مجھے امید وفا ان سے نہ تھی پر
کچھ کچھ ہوا قاصد تری باتوں سے یقیں آج
مقتل میں مری شرم ترے ہاتھ ہے قاتل
کچھ نہ کمی حق میں مرے دیکھ کہیں آج
حسرت نے کہا دیکھ سوئے گور غریباں
جو تخت نشیں کل تھے وہ ہیں زیر زمیں آج
گھبرا کے شب وصل میں کہنا یہ کسی کا
دم آپ ہمیں لینے بھی دیں گے کہ نہیں آج
خورشید بھی جس کے نہیں ذرہ کے برابر
قسمت سے ملا ہے ہمیں وہ زہرہ جبیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.