Font by Mehr Nastaliq Web

کل چہرہ کا جو رنگ تھا وہ رنگ نہیں آج

شفیع قادری محو

کل چہرہ کا جو رنگ تھا وہ رنگ نہیں آج

شفیع قادری محو

MORE BYشفیع قادری محو

    کل چہرہ کا جو رنگ تھا وہ رنگ نہیں آج

    کیوں بیٹھے ہو بتلاؤ تو اے محو حزیں آج

    کل تک مجھے امید وفا ان سے نہ تھی پر

    کچھ کچھ ہوا قاصد تری باتوں سے یقیں آج

    مقتل میں مری شرم ترے ہاتھ ہے قاتل

    کچھ نہ کمی حق میں مرے دیکھ کہیں آج

    حسرت نے کہا دیکھ سوئے گور غریباں

    جو تخت نشیں کل تھے وہ ہیں زیر زمیں آج

    گھبرا کے شب وصل میں کہنا یہ کسی کا

    دم آپ ہمیں لینے بھی دیں گے کہ نہیں آج

    خورشید بھی جس کے نہیں ذرہ کے برابر

    قسمت سے ملا ہے ہمیں وہ زہرہ جبیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے