Font by Mehr Nastaliq Web

ہر دم گذرتے رہتے ہیں تیری گلی سے ہم

شاہ عظیم آبادی

ہر دم گذرتے رہتے ہیں تیری گلی سے ہم

شاہ عظیم آبادی

MORE BYشاہ عظیم آبادی

    ہر دم گذرتے رہتے ہیں تیری گلی سے ہم

    غافل کبھی ہوئے نہ تری بندگی سے ہم

    سوچا تھا راز دل نہ کہیں گے کسی سے ہم

    آنکھوں پہ سب کی چڑھ گئے تر دامنی سے ہم

    قدموں کو چوم لے کہ ہے طیبہ کا قافلہ

    اے چاند یہ کہیں گے تری چاندنی سے ہم

    ہر اک قدم پہ سر کو جھکاتے چلے گئے

    جب بھی گذر سکے ہیں تمہاری گلی سے ہم

    حسرت بھری نگاہ ہے رخ پر جمی ہوئی

    شکوہ بھی کر رہے ہیں تو کس خامشی سے ہم

    جانا ہے شاہؔ ساقیٔ کوثر کے سامنے

    توبہ کبھی کریں گے نہ بادہ کشی سے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے