ہر دم گذرتے رہتے ہیں تیری گلی سے ہم
ہر دم گذرتے رہتے ہیں تیری گلی سے ہم
غافل کبھی ہوئے نہ تری بندگی سے ہم
سوچا تھا راز دل نہ کہیں گے کسی سے ہم
آنکھوں پہ سب کی چڑھ گئے تر دامنی سے ہم
قدموں کو چوم لے کہ ہے طیبہ کا قافلہ
اے چاند یہ کہیں گے تری چاندنی سے ہم
ہر اک قدم پہ سر کو جھکاتے چلے گئے
جب بھی گذر سکے ہیں تمہاری گلی سے ہم
حسرت بھری نگاہ ہے رخ پر جمی ہوئی
شکوہ بھی کر رہے ہیں تو کس خامشی سے ہم
جانا ہے شاہؔ ساقیٔ کوثر کے سامنے
توبہ کبھی کریں گے نہ بادہ کشی سے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.