بناتے ہیں وہ گل بوٹے وہاں تو اپنے داماں میں
بناتے ہیں وہ گل بوٹے وہاں تو اپنے داماں میں
یہاں اک تار بھی باقی نہیں میرے گریباں میں
لہو سے عاشقوں کے چار سو چھڑ کاؤ ہوتا ہے
کبھی گلگوں قبا کی آمد آمد ہے گلستاں میں
جھکا رکھا ہے اس درجہ ہمارے ضعف نے ہم کو
کہ اب سر گوشیاں ہوتی ہیں دامان و گریباں میں
بڑھانا جب ہوا وحشت میں سودا اور بھی میرا
تو آئے زلف بکھرا کر مرے خوابِ پریشاں میں
اڑا جاتا ہے تیزی سے سرِ منزل پہنچنے کو
ہیں یارب کون سے پر طائرِ عمر گریزاں میں
مٹایا ہے یہاں تک مجھ کو میرے جوش وحشت نے
سلامت شاہؔ دھجی بھی نہیں اپنے گریباں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.