اے مصور صورت رخسار پُر انوار کھینچ
اے مصور صورت رخسار پُر انوار کھینچ
خامۂ تار شعاعی سے شبیہ یار کھینچ
جامۂ ہستی کو اے دستِ جنوں اک بار کھینچ
دھجیاں اس کی اڑا کر تن سے اک اک تار کھینچ
منت بہزادو مانی تو نہ دل افگار کھینچ
لوح دل پر نقشۂ رخسارۂ دلدار کھینچ
مجھ کو منظور نظر نظارہ اس کا ہے اگر
غافل آنکھوں سے تو اپنے پردۂ پندار کھینچ
کم نہیں ہونے کے میری وحشتِ دل اے جنوں
سوئے صحرا کھینچ مجھ کو یا سوئے کہسار کھینچ
خانۂ پیر مغاں دریائے فیض عام ہے
خم پہ خم پیمانے پر پیمانہ اے میخوار کھینچ
صورتِ تصویر حیراں ہوگیا ہے آپ وہ
کیا کھلے مانی سے کوئی نقشۂ دلدار کھینچ
سب پہ یکساں چاہیے قاتل تری چشم کرم
اس طرف بھی تو نگاہِ ناز کی تلوار کھینچ
جذبۂ الفت دکھا اپنا زلیخا کی طرح
اپنے یوسف کو دلا تو بھی سر بازار کھینچ
بیت ابرو جس طرح عرفان رخِ خوباں پہ ہے
صفحۂ قرطاس پر یوں نقشۂ اشعار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.