Font by Mehr Nastaliq Web

چشم خوں بستہ سے پھر اشک نمودار ہوا

شاہ کمال الدین حسین

چشم خوں بستہ سے پھر اشک نمودار ہوا

شاہ کمال الدین حسین

MORE BYشاہ کمال الدین حسین

    چشم خوں بستہ سے پھر اشک نمودار ہوا

    طفلِ خوابیدہ بہت دیر میں بیدار ہوا

    جلوہ ترا ہم کو ہر اک سو نظر پڑا

    دیکھا میں جس طرف کے تہیں تو نظر پڑا

    پیارے صفائے حسن تری میں کہوں سو کیا

    ہر آئینہ سے صاف ترا رو نظر پڑا

    قد کا ترے نہ آنکھوں میں میرے بسے خیال

    اکثر ہے یہ کہ سرو لبِ جو نظر پڑا

    دیکھی کمالؔ غور سے اس کی کمر جو میں

    کچھ اور تو نہ تھا مگر اک مو نظر پڑا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے