چشم خوں بستہ سے پھر اشک نمودار ہوا
چشم خوں بستہ سے پھر اشک نمودار ہوا
طفلِ خوابیدہ بہت دیر میں بیدار ہوا
جلوہ ترا ہم کو ہر اک سو نظر پڑا
دیکھا میں جس طرف کے تہیں تو نظر پڑا
پیارے صفائے حسن تری میں کہوں سو کیا
ہر آئینہ سے صاف ترا رو نظر پڑا
قد کا ترے نہ آنکھوں میں میرے بسے خیال
اکثر ہے یہ کہ سرو لبِ جو نظر پڑا
دیکھی کمالؔ غور سے اس کی کمر جو میں
کچھ اور تو نہ تھا مگر اک مو نظر پڑا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.