دل کے ہر داغ کا ہے رنگ کچھ اے یار نیا
دل کے ہر داغ کا ہے رنگ کچھ اے یار نیا
سیر کر تو بھی کہ پھولا ہے یہ گلزار نیا
جنسِ دل جس کی مانگی ہے قیمت اس سے
واہ پیدا یہ ہوا زور خریدار نیا
کس طرح کہیے نہ پھر بو قلموں جلوہ اسے
رنگ ہر لحظہ دکھاتا ہے وہ دلدار نیا
کہنہ مشتاق طبیعبوں نے کہا دیکھ مجھے
طرفہ آزاد ہے یہ اس کو ہے بیمار نیا
جوں جوں کرتے ہیں دوا اور مرض بڑھتا ہے
یا الٰہی اسے کیا ہے یہ آزار نیا
ایک نقشہ پہ زمانہ رہے پھر کیوں کر کمالؔ
رنگ اس چہرۂ عالم کا ہر بار نیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.