Font by Mehr Nastaliq Web

دل کے ہر داغ کا ہے رنگ کچھ اے یار نیا

شاہ کمال الدین حسین

دل کے ہر داغ کا ہے رنگ کچھ اے یار نیا

شاہ کمال الدین حسین

MORE BYشاہ کمال الدین حسین

    دل کے ہر داغ کا ہے رنگ کچھ اے یار نیا

    سیر کر تو بھی کہ پھولا ہے یہ گلزار نیا

    جنسِ دل جس کی مانگی ہے قیمت اس سے

    واہ پیدا یہ ہوا زور خریدار نیا

    کس طرح کہیے نہ پھر بو قلموں جلوہ اسے

    رنگ ہر لحظہ دکھاتا ہے وہ دلدار نیا

    کہنہ مشتاق طبیعبوں نے کہا دیکھ مجھے

    طرفہ آزاد ہے یہ اس کو ہے بیمار نیا

    جوں جوں کرتے ہیں دوا اور مرض بڑھتا ہے

    یا الٰہی اسے کیا ہے یہ آزار نیا

    ایک نقشہ پہ زمانہ رہے پھر کیوں کر کمالؔ

    رنگ اس چہرۂ عالم کا ہر بار نیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے