Font by Mehr Nastaliq Web

ہاتھ میں اس بت کی جو نازک کلائی آ گئی

شاہ کمال الدین حسین

ہاتھ میں اس بت کی جو نازک کلائی آ گئی

شاہ کمال الدین حسین

MORE BYشاہ کمال الدین حسین

    ہاتھ میں اس بت کی جو نازک کلائی آ گئی

    گویا قبضہ میں مرے ساری خدائی آ گئی

    وہ بت مغرور کل ہم سے ہوا جو نہی دو چار

    سامنے ہو کر مجسم کبریائی آ گئی

    لے چلا صحرا میں کیوں مجھ کو دلِ وحشی تو کھینچ

    بیٹھے بیٹھے جی میں یہ کیا تیرے بھائی آ گئی

    اکڑ و بالا بے طرح سے کر چکے تھے تم کو رند

    شیخ صاحب آپ کے آڑے کمائی آ گئی

    حرف مطلب جوں کمالؔ ا س سے کیا میں نے بیاں

    سنتے ہی بس اس کے چہرے پر رکھائی آ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے