ہاتھ میں اس بت کی جو نازک کلائی آ گئی
ہاتھ میں اس بت کی جو نازک کلائی آ گئی
گویا قبضہ میں مرے ساری خدائی آ گئی
وہ بت مغرور کل ہم سے ہوا جو نہی دو چار
سامنے ہو کر مجسم کبریائی آ گئی
لے چلا صحرا میں کیوں مجھ کو دلِ وحشی تو کھینچ
بیٹھے بیٹھے جی میں یہ کیا تیرے بھائی آ گئی
اکڑ و بالا بے طرح سے کر چکے تھے تم کو رند
شیخ صاحب آپ کے آڑے کمائی آ گئی
حرف مطلب جوں کمالؔ ا س سے کیا میں نے بیاں
سنتے ہی بس اس کے چہرے پر رکھائی آ گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.