Font by Mehr Nastaliq Web

جب درمیاں سے اٹھ گیا پردہ حجاب کا

شاہ معین الدین احمد

جب درمیاں سے اٹھ گیا پردہ حجاب کا

شاہ معین الدین احمد

MORE BYشاہ معین الدین احمد

    جب درمیاں سے اٹھ گیا پردہ حجاب کا

    ہر سو نظر پڑا مجھے نور آفتاب کا

    جس کو ہے عشق اس شہِ عالی جناب کا

    کیا خوف اس کو ہے بھلا روز حساب کا

    لائے نسیم گر مرے گل پیرہن کی بو

    بلبل چمن میں نام نہ لے پھر گلاب کا

    جوڑا جو آج خواب میں اس بت کا کھل گیا

    ظلمات میں نہاں ہوا نور آفتاب کا

    چھٹکائے زلف رخ پہ جو وہ غیرتِ قمر

    خورشید منہ پہ کھیچ لے گھونگھٹ سحاب کا

    پوچھے خدا جو حشر میں کیا لائے ہو معینؔ

    دل سے میں نام لوں گا رسالت مآب کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے