جب درمیاں سے اٹھ گیا پردہ حجاب کا
جب درمیاں سے اٹھ گیا پردہ حجاب کا
ہر سو نظر پڑا مجھے نور آفتاب کا
جس کو ہے عشق اس شہِ عالی جناب کا
کیا خوف اس کو ہے بھلا روز حساب کا
لائے نسیم گر مرے گل پیرہن کی بو
بلبل چمن میں نام نہ لے پھر گلاب کا
جوڑا جو آج خواب میں اس بت کا کھل گیا
ظلمات میں نہاں ہوا نور آفتاب کا
چھٹکائے زلف رخ پہ جو وہ غیرتِ قمر
خورشید منہ پہ کھیچ لے گھونگھٹ سحاب کا
پوچھے خدا جو حشر میں کیا لائے ہو معینؔ
دل سے میں نام لوں گا رسالت مآب کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.