Sufinama

چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا

شاہ رکن الدین عشقؔ

چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    چہرہ پہ جو تیرے نظر کر گیا

    جان سے وہ اپنی گزر کر گیا

    جس کی طرف سے تری آنکھیں پھریں

    اشک کے مانند سفر کر گیا

    منہ کو دیکھا اپنے وہ خورشید رو

    شام غریباں کو سحر کر گیا

    اس کو نکالے کوئی کس طور سے

    تیر مژہ سینے میں گھر کر گیا

    رخصت موعود تھی ہچکی نہ تھی

    چلتے ہوئے دم یہ خبر کر گیا

    جو کوئی بیٹھا ترے کوچے میں آ

    اٹھ نہ سکا یارو وہ مر کر گیا

    جس کی نظر عشقؔ کے اوپر پڑی

    چشم کے تئیں اپنی وہ تر کر گیا

    مآخذ:

    • Book: کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 3)
    • Author: قریشہ حسین
    • مطبع: دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY