Sufinama

نظر میں جس کی پھرتی ہووے اس خونخوار کی صورت

شاہ رکن الدین عشقؔ

نظر میں جس کی پھرتی ہووے اس خونخوار کی صورت

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    نظر میں جس کی پھرتی ہووے اس خونخوار کی صورت

    اسے ہرگز نہ خوش آوے گل و گلزار کی صورت

    بغیر از روئے زیبا کے جہاں کا آئینہ خانہ

    نظر آتا ہے آنکھوں میں در و دیوار کی صورت

    بہا جاتا ہے خوں آنکھوں سے اس کی یہ نشاں تو ہے

    وگرنہ کون پہچانے ترے بیمار کی صورت

    عرض کیا اور کیا جوہر کوئی ظاہر کوئی مظہر

    محقق کہتے ہیں ان سب کو اس دل دار کی صورت

    یہ زور عشقؔ ہے بے شبہ ہم بھی تجھ سے کہتے ہیں

    ابے سنتا ہے او زاہد ترے انکار کی صورت

    مآخذ:

    • Book: کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 86)
    • Author: قریشہ حسین
    • مطبع: دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY