Sufinama

نہ ہمیں سود نہ زیاں ہے یاد

شاہ رکن الدین عشقؔ

نہ ہمیں سود نہ زیاں ہے یاد

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    نہ ہمیں سود نہ زیاں ہے یاد

    صرف یہ نالہ و فغاں ہے یاد

    ہوشیاروں سے پوچھ یہ باتیں

    آپ کو بھولے جب کہاں ہے یاد

    گو کا مدت سے اس قفس میں ہیں

    پر قدیم اپنا آشیاں ہے یاد

    وہم کے اپنے سب مفسر ہیں

    بے نشاں کا کسے نشاں ہے یاد

    دل تو اور ہی مکاں میں پھرتا ہے

    نہ زمیں ہے نہ آسماں ہے یاد

    آگے کچھ کچھ جو ہم سے کہتے تھے

    اس سے کچھ تم کو مہرباں ہے یاد

    مآخذ:

    • Book : کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 95)
    • Author : قریشہ حسین
    • مطبع : دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY