Sufinama

مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل

شاہ رکن الدین عشقؔ

مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل

    سو جانیں ہوں تو کیجیے اس پر فدائے گل

    جاتا ہے مثل بو کے یہ دل اڑا ہوا

    کیوں کر بھلا نہ ہوں میں کہو مبتلائے گل

    سرسبز گل کی رکھے خدا ہر روش بہار

    اے باغباں نصیب ہو تجھ کو بلائے گل

    گل زار اس کے داغ سے سینہ مرا ہوا

    کہو مرے مزار پر کوئی نہ لائے گل

    اس بلبل اسیر کی حسرت پہ داغ ہوں

    مر ہی گئی قفس میں سنی جب صدائے گل

    گلچیں و باغباں کو کہاں اس کی قدر ہے

    بلبل کے دل سے پوچھئے جس وقت آئے گل

    کچھ آرزو سے کام نہیں عشقؔ کو صبا

    منظور اس کو ہے وہی جو ہو رضائے گل

    مآخذ:

    • Book: کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 141)
    • Author: قریشہ حسین
    • مطبع: دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY