Sufinama

خون کا قطرہ نہیں ہے چشم گریاں اب تلک

شاہ رکن الدین عشقؔ

خون کا قطرہ نہیں ہے چشم گریاں اب تلک

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    خون کا قطرہ نہیں ہے چشم گریاں اب تلک

    عضو سارے جل گئے پر دل ہے بریاں اب تلک

    سو زباں ہو مثل شانہ معذرت کی مو بہ مو

    صاف دل ہوتی نہیں وہ زلف پیچاں اب تلک

    کہیو اے قاصد پیام اس کو کہ تیرے ہجر سے

    جاں بہ لب پہنچا نہیں آتا ہے تو یاں اب تلک

    سن کے نا خوش ہو کہا نسبت تھی مجھ سے عشق کی

    سو یہ اب معلوم ہوئی تس پر ہے نازاں اب تلک

    عشقؔ کا دعویٰ کیا اور ہجر میں جیتا رہا

    پھیر تو شاکی ہے ہم سے کہیو ناداں اب تلک

    مآخذ:

    • Book: کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 133)
    • Author: قریشہ حسین
    • مطبع: دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY