Sufinama

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

شاہ رکن الدین عشقؔ

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

    آفت زدہ ہوں یار ادھر کا نہ ادھر کا

    کس طور دل اس خنجر مژگاں کی سپر ہو

    مقدور جہاں ہو نہ قضا کا نہ قدر کا

    گلزار میں دنیا کے ہوں جو نخل بھچنپا

    خواہش نہ ثمر کی نہ میاں خوف قہر کا

    میں ہاتھ میں ہوں باد کے مانند پر کاہ

    پابند نہ گھر کا ہوں نہ مشتاق سفر کا

    اس سے جو کیا عشقؔ کا مذکور کسی نے

    بولا کہ عبث ذکر ہے اس خاک بسر کا

    مآخذ:

    • Book : کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 4)
    • Author : قریشہ حسین
    • مطبع : دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY