Font by Mehr Nastaliq Web

مئے حسن باعثِ بے خودی نہ ملی کسی کو اگر ملی

شام اکبرآبادی

مئے حسن باعثِ بے خودی نہ ملی کسی کو اگر ملی

شام اکبرآبادی

MORE BYشام اکبرآبادی

    مئے حسن باعثِ بے خودی نہ ملی کسی کو اگر ملی

    اسے آج تک تو خبر نہیں یہ سرور ہے کہ خمار ہے

    یہ عجیب راز ہے گومگو کہ نظر سے دیکھ کے چپ رہو

    جو زباں سے کلمۂ حق کہے وہ جہاں میں قابلِ دار ہے

    کبھی قبر پر جو وہ آگئے تو یہ کہہ کے اور مٹا گئے

    تری حسرتوں کا ہے ڈھیر یا مری شامؔ تیرا مزار ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 461)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے