مئے حسن باعثِ بے خودی نہ ملی کسی کو اگر ملی
مئے حسن باعثِ بے خودی نہ ملی کسی کو اگر ملی
اسے آج تک تو خبر نہیں یہ سرور ہے کہ خمار ہے
یہ عجیب راز ہے گومگو کہ نظر سے دیکھ کے چپ رہو
جو زباں سے کلمۂ حق کہے وہ جہاں میں قابلِ دار ہے
کبھی قبر پر جو وہ آگئے تو یہ کہہ کے اور مٹا گئے
تری حسرتوں کا ہے ڈھیر یا مری شامؔ تیرا مزار ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 461)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.