Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

وفور نشہ میں دست ساقی سے گھر کے جام شراب اٹھا

شمیمؔ خیرآبادی

وفور نشہ میں دست ساقی سے گھر کے جام شراب اٹھا

شمیمؔ خیرآبادی

وفور نشہ میں دست ساقی سے گھر کے جام شراب اٹھا

کہ چرخ سے گر کے یہ زمیں پر زمیں سے آفتاب اٹھا

جو وہ تھی تقدیر کی رسائی تو یہ ہے قسمت کی نارسائی

کہ ہوگی ویسے ہی یہ جدائی جو ان کا مجھ سے حجاب اٹھا

ہے مشتعل آتشِ جگر سے کسی پری رخ کا آتشیں رخ

کہ یہ جو بھڑکی ادھر، ادھر بھی دھواں سا زیر نقاب اٹھا

کرم کرے ان کی دستگیری کہ بار عصیاں کا اس قدر ہے

کہ دو قدم بھی نہ چل سکا پھر جولے کے فرد حساب اٹھا

شمیمؔ بحر جہان فانی میں زندگانی ہے ایک دم کی

وہیں بہ شکل حباب بیٹھا کوئی جو مثل حباب اٹھا

مأخذ :
  • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 157)
  • Author : عرفان عباسی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے