قید حیات کٹتی ہے کس کس عذاب سے
قید حیات کٹتی ہے کس کس عذاب سے
تفصیل ایک نفس کی پوچھو حباب سے
سر اپنا سنگ قبر سے پھوڑے جہاں تو کیا
اب سونے والے حشر میں جاگیں گے خواب سے
مر رہیے کوئے یار میں چل کر یہی کہا
جب مشورہ کیا دلِ خانہ خراب سے
بالکل غلط کہ عشق کا بیمار مر گیا
بیداری فراق کو بدلا ہے خواب سے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.