تو سہی داغ جنوں دیکھ کے شرمائے بہار
تو سہی داغ جنوں دیکھ کے شرمائے بہار
آؤ تم کو بھی دکھاؤں میں تماشائے بہار
جب سے دیکھا ہے تجھے دل نہیں جو یائے بہار
تیری صورت ہے مجھے چہرۂ زیبائے بہار
لوگ دیوانہ کہیں جوشِ جوانی میں مجھے
نام وحشت سے ہے موسوم تقاضائے بہار
جوش گل تو ہی بتا میرے نہیں ہوش بجا
خون بلبل کا یہ دریا ہے کہ دریائے بہار
رحم کر رحم اسیران قفس پر صیاد
داغ بن کر رہی جاتی ہے تمنائے بہار
صحن گلشن میں ہیں بلبل کے لہو کی چھینٹیں
دل یہ کہتا ہے کہ ہیں نقشِ کفِ پائے بہار
یہ فضا اور یہ گھٹائیں یہ ترشح یہ ہوا
تم گلستاں میں چلے آؤ تو آج آئے بہار
پہلی منزل بھی ہے بیرون حدود امکاں
منزلت یہ ہے تری بادیہ پیمائے بہار
شوخ گل پھولے سماتے نہیں گلزاروں میں
چاک دامن ہے مرا حوصلہ افزائے بہار
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.