Font by Mehr Nastaliq Web

تو سہی داغ جنوں دیکھ کے شرمائے بہار

شوخ اکبرآبادی

تو سہی داغ جنوں دیکھ کے شرمائے بہار

شوخ اکبرآبادی

MORE BYشوخ اکبرآبادی

    تو سہی داغ جنوں دیکھ کے شرمائے بہار

    آؤ تم کو بھی دکھاؤں میں تماشائے بہار

    جب سے دیکھا ہے تجھے دل نہیں جو یائے بہار

    تیری صورت ہے مجھے چہرۂ زیبائے بہار

    لوگ دیوانہ کہیں جوشِ جوانی میں مجھے

    نام وحشت سے ہے موسوم تقاضائے بہار

    جوش گل تو ہی بتا میرے نہیں ہوش بجا

    خون بلبل کا یہ دریا ہے کہ دریائے بہار

    رحم کر رحم اسیران قفس پر صیاد

    داغ بن کر رہی جاتی ہے تمنائے بہار

    صحن گلشن میں ہیں بلبل کے لہو کی چھینٹیں

    دل یہ کہتا ہے کہ ہیں نقشِ کفِ پائے بہار

    یہ فضا اور یہ گھٹائیں یہ ترشح یہ ہوا

    تم گلستاں میں چلے آؤ تو آج آئے بہار

    پہلی منزل بھی ہے بیرون حدود امکاں

    منزلت یہ ہے تری بادیہ پیمائے بہار

    شوخ گل پھولے سماتے نہیں گلزاروں میں

    چاک دامن ہے مرا حوصلہ افزائے بہار

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 435)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے