چمن کے تنکے جو بے قدر تھے زمانے میں
چمن کے تنکے جو بے قدر تھے زمانے میں
وہ چن کے رکھ لیے بلبل نے آشیانے میں
مزا تھا زیست کا مٹھی میں تیری اے صیاد
وہ اب نصیب قفس میں نہ آشیانے میں
ہے چار تنکوں میں تفصیل دور باد خزاں
جو باغ میں نہیں ہے میرے آشیانے میں
بلائے جان ہے یہ دو دن کی زندگی ورنہ
مجھے قفس میں ہے رہنا نہ آشیانے میں
ہے اختیار تجھے باغباں جلا نہ جلا
ترے چمن ہی کے تنکے ہیں آشیانے میں
قفس میں یاد نشمین سے دلفگار ہوا
بنے وہ تیر جو تنکے تھے آشیانے میں
اسی سبب سے جلایا گیا تباہ ہوا
کہ رہ گیا تھا مرا نام آشیانے میں
زباں کھلتے ہی اے شوخ آ گیا صیاد
غزل سرا ابھی ہوتا میں آشیانے میں
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 436)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.