Font by Mehr Nastaliq Web

چمن کے تنکے جو بے قدر تھے زمانے میں

شوخ اکبرآبادی

چمن کے تنکے جو بے قدر تھے زمانے میں

شوخ اکبرآبادی

MORE BYشوخ اکبرآبادی

    چمن کے تنکے جو بے قدر تھے زمانے میں

    وہ چن کے رکھ لیے بلبل نے آشیانے میں

    مزا تھا زیست کا مٹھی میں تیری اے صیاد

    وہ اب نصیب قفس میں نہ آشیانے میں

    ہے چار تنکوں میں تفصیل دور باد خزاں

    جو باغ میں نہیں ہے میرے آشیانے میں

    بلائے جان ہے یہ دو دن کی زندگی ورنہ

    مجھے قفس میں ہے رہنا نہ آشیانے میں

    ہے اختیار تجھے باغباں جلا نہ جلا

    ترے چمن ہی کے تنکے ہیں آشیانے میں

    قفس میں یاد نشمین سے دلفگار ہوا

    بنے وہ تیر جو تنکے تھے آشیانے میں

    اسی سبب سے جلایا گیا تباہ ہوا

    کہ رہ گیا تھا مرا نام آشیانے میں

    زباں کھلتے ہی اے شوخ آ گیا صیاد

    غزل سرا ابھی ہوتا میں آشیانے میں

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 436)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے