Font by Mehr Nastaliq Web

شوق میں اب نہ رکیں گے دم رفتار قدم

کوثر وارثی

شوق میں اب نہ رکیں گے دم رفتار قدم

کوثر وارثی

MORE BYکوثر وارثی

    شوق میں اب نہ رکیں گے دم رفتار قدم

    دور اب منزل مقصود ہو یا چار قدم

    دشت زنداں میں ٹھہرتے نہیں زنہار قدم

    ترے کوچے کے ہیں ہر وقت طلب گار قدم

    ہو گئے کوچۂ دل دار میں بیکار قدم

    میں اٹھاتا ہوں پر اٹھتے نہیں زنہار قدم

    اللہ اللہ نزاکت سے کسی کا چلنا

    فتنۂ حشر نے چومے دم رفتار قدم

    اٹھ کے آتے ہیں بگولے مری پا بوسی کو

    میں جو رکھتا ہوں سر وادیٔ پر خار قدم

    خوبئ بخت کہ شل ہو گئے پاؤں مرے

    رہ گئی منزل مقصود جو دو چار قدم

    بخدا قبر کی ہو جائے گی مشکل آساں

    ساتھ لاشہ کے چلیں گے جو وہ دو چار قدم

    غیر جب تک نہ نکل جائے گا محفل سے تری

    ہم نہ رکھیں گے تری بزم میں زنہار قدم

    اللہ اللہ مجھے منزل مقصود کا شوق

    سایۂ تن سے نکل جاتا ہوں دو چار قدم

    میں خفا ہو کے جب اٹھا تو وہ بولے کوثرؔ

    فتنۂ حشر نے چومے دم رفتار قدم

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 181)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے