Font by Mehr Nastaliq Web

اکیلا تو ہی نہیں مجھ سے بدگماں صیاد

شیخ ادریس چشتی

اکیلا تو ہی نہیں مجھ سے بدگماں صیاد

شیخ ادریس چشتی

MORE BYشیخ ادریس چشتی

    اکیلا تو ہی نہیں مجھ سے بدگماں صیاد

    پھرا ہوا ہے تری طرح اک جاں صیاد

    لبوں تک آتی ہے سانس اب ہزار مشکل میں

    کہاں ہیں اگلی سی وہ نغمہ سنجیاں صیاد

    اسیر ہوتے ہی رخصت تھےعقل و ہوش افسوس

    لٹا ہے گھر میں ترے مرا کارواں صیاد

    یہ ایک جان ہے دو دشمنوں کے پنجے میں

    ہمیشہ گھات میں اپنے ہے باغباں صیاد

    نبی ہے قفل در خاموشی مری منقار

    قفس میں کھولنے دیتا نہیں زباں صیاد

    قفس میں ہوں میں کریں ہم صفیر سیر چمن

    نہ چھوڑے گا مجھے یہ صدمۂ نہاں صیاد

    کوئی چمن کوئی صحرا نہیں بچا ادریسؔ

    مرے سراغ میں پہنچا کہاں کہاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے