اکیلا تو ہی نہیں مجھ سے بدگماں صیاد
اکیلا تو ہی نہیں مجھ سے بدگماں صیاد
پھرا ہوا ہے تری طرح اک جاں صیاد
لبوں تک آتی ہے سانس اب ہزار مشکل میں
کہاں ہیں اگلی سی وہ نغمہ سنجیاں صیاد
اسیر ہوتے ہی رخصت تھےعقل و ہوش افسوس
لٹا ہے گھر میں ترے مرا کارواں صیاد
یہ ایک جان ہے دو دشمنوں کے پنجے میں
ہمیشہ گھات میں اپنے ہے باغباں صیاد
نبی ہے قفل در خاموشی مری منقار
قفس میں کھولنے دیتا نہیں زباں صیاد
قفس میں ہوں میں کریں ہم صفیر سیر چمن
نہ چھوڑے گا مجھے یہ صدمۂ نہاں صیاد
کوئی چمن کوئی صحرا نہیں بچا ادریسؔ
مرے سراغ میں پہنچا کہاں کہاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.